نامحرم کے ساتھ رہنے والی عورت سے سماجی قطع تعلقی کا حکم

نامحرم کے ساتھ رہنے والی عورت سے سماجی قطع تعلقی کا حکم

سوال:

ہمارے پڑوس میں ایک خاتون رہتی ہیں جنہیں ڈیڑھ سال قبل ان کے شوہر نے طلاق دے دی تھی۔ اس کے بعد وہ ایک دوسرے علاقے میں کرایہ کے مکان میں منتقل ہو گئیں۔ ان کی تین بیٹیوں کی شادی ہوچکی ہے جبکہ باقی بچے کچھ دن والدہ اور کچھ دن والد کے پاس رہتے تھے۔ بعد میں اس خاتون نے ایک کنوارے نوجوان سے خفیہ نکاح کیا، مگر جب اس کے والدین کو اس نکاح کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے کو واپس اپنے گھر بلالیا۔ اب وہ عورت اپنے سابقہ شوہر کے پاس واپس آچکی ہے، حالانکہ اس نوجوان نے اسے طلاق نہیں دی۔

اس وقت وہ اپنے پہلے شوہر (جو اب اس کے لیے غیر محرم ہے) کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہ رہی ہے۔ مفتیانِ کرام سے استفسار پر بتایا گیا کہ یہ طرزِ عمل شرعاً ناجائز ہے، لہٰذا ان سے قطع تعلق کرلیا جائے۔ اس وجہ سے گلی کے تمام لوگوں نے ان کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان سے سماجی تعلق ختم کرنا درست ہے؟ اور کیا ان کی ضرورت کے وقت مدد کرنا گناہ ہوگا؟


جواب:

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی اس خاتون کو اس کے شوہر نے تین طلاقیں دے دی تھیں اور اس کے بعد اس نے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلیا تھا، تو جب تک دوسرا شوہر اسے طلاق یا خلع نہ دے، وہ اسی کے نکاح میں باقی ہے۔ لہٰذا سابقہ شوہر کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنا شرعاً حرام اور کبیرہ گناہ ہے، کیونکہ وہ اب اس کے لیے نامحرم ہے۔ دونوں پر فوراً علیحدگی اختیار کرنا اور اپنے اس گناہ پر توبہ و استغفار کرنا لازم ہے۔

اگر سمجھانے کے باوجود وہ دونوں اس حرام تعلق کو ختم نہ کریں، تو اصلاح کی نیت سے اور معاشرتی برائی کے سدباب کے لیے ان سے بقدرِ ضرورت سماجی بائیکاٹ کرنا درست ہے۔ البتہ اگر وہ ضرورت کے وقت کوئی ناگزیر چیز مانگیں، جیسے کھانے پینے یا زندگی کی بنیادی ضرورت، تو ان کی انسانی ہمدردی کے طور پر مدد کرنا گناہ نہیں بلکہ جائز اور باعثِ اجر ہے۔ اسلام میں بائیکاٹ کا مقصد نفرت یا ظلم نہیں بلکہ اصلاح اور توبہ کی ترغیب دینا ہوتا ہے۔


دلائلِ شرعیہ:

"لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة."
(الفتاوی الهندیة، کتاب النکاح، الباب الثالث، ج: 1، ص: 280، ط: دارالفکر)
"فإن هجرة أهل الأهواء والبدع واجبة على مر الأوقات ما لم يظهر منه التوبة والرجوع إلى الحق."
(مرقاۃ المفاتیح، کتاب الآداب، ج: 8، ص: 1347، ط: دارالفکر)
"ولا يسلم على الشيخ المازح الكذاب واللاغي؛ ولا على من يسب الناس أو ينظر وجوه الأجنبيات، ولا على الفاسق المعلن... ما لم تعرف توبتهم."
(رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، ج: 6، ص: 415، ط: سعید)
”مسلمان خواہ کتنا ہی فاسق و فاجر کیوں نہ ہو، مسلمان مؤمن تو ہے، پھر اگر قطع تعلقی سے امید ہو کہ وہ باز آجائے گا تو ترکِ تعلقات بہتر ہے، اور اگر کوئی تعلق رکھے تو ایسا گناہ نہیں جیسے کافر کے ساتھ تعلق پر ہوتا ہے۔“
(کفایت المفتی، کتاب الحظر والإباحۃ، ج: 9، ص: 122، ط: دارالاشاعت)

خلاصہ:

اگر عورت واقعۃً دوسرے نکاح میں ہے اور طلاق حاصل نہیں کی، تو اپنے سابق شوہر کے ساتھ رہنا ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے۔ ایسے حالات میں اصلاح کی نیت سے سماجی بائیکاٹ جائز ہے، مگر انسانی ہمدردی اور ضرورت کے وقت مدد کرنے میں شرعاً حرج نہیں۔ اسلامی تعلیمات میں توازن کا حکم ہے — اصلاح بھی ضروری ہے اور رحمدلی بھی لازم۔


واللہ اعلم بالصواب