لے پالک کی ولدیت میں گود لینے والے کا نام درج کرنے کا شرعی حکم
سوال:
میرے بڑے دو بیٹے میرے ساتھ رہتے ہیں، جبکہ 2007–2008 میں تیسرے بیٹے کی ولادت ہوئی تو میں نے وہ بیٹا اپنے سگے بھائی کو دے دیا جن کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اس سے پہلے وہ اپنی بھانجی کو بھی گود لے چکے تھے۔ جب میرا بیٹا تقریباً نو یا دس سال کا ہوا تو میں نے سورۃ الاحزاب کی آیات 4 اور 5 بمع ترجمہ پڑھیں، تو احساس ہوا کہ مجھ سے بڑی غلطی سرزد ہوئی ہے۔ اس وقت میرا بھائی اور بھابھی بیمار تھے، اس لیے میں کچھ کہہ نہ سکا، اور کچھ عرصے بعد بھائی کا انتقال ہوگیا۔ بھابھی اب بھی بیمار رہتی ہیں۔ بھائی نے میری اجازت سے میرے بیٹے کو اپنا نام دیا ہوا ہے، لہٰذا اسکول اور نادرا کے ریکارڈ میں والد کے خانے میں بھائی کا نام درج ہے۔
پوچھنا یہ ہے کہ کیا میرے لیے شرعاً لازم ہے کہ میں اپنے بیٹے کے تمام سرکاری ریکارڈ درست کروا کر والد کے خانے میں اپنا ہی نام درج کرواؤں؟ اگرچہ یہ مرحلہ مشکل ہے مگر ممکن ہے۔
جواب:
صورتِ مسئولہ میں سائل کے بیٹے کے والد کے خانے میں گود لینے والے (سگے بھائی) کا نام درج کرنا شرعاً درست نہیں۔ شریعتِ اسلامیہ نے نسب کی حفاظت کو لازم قرار دیا ہے، لہٰذا کسی بچے کو گود لینے سے وہ گود لینے والے کا حقیقی بیٹا نہیں بن جاتا۔ بلکہ شریعت میں ایسے بچے کو اس کے حقیقی باپ ہی کی طرف منسوب کرنا واجب ہے۔ گود لینے والا شخص اگر چاہے تو قانونی طور پر سرپرست (Guardian) کے طور پر اپنا نام درج کرواسکتا ہے، لیکن ولدیت (Father’s Name) کے خانے میں اپنا نام لکھوانا حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔
لہٰذا سائل پر لازم ہے کہ حتی الامکان جلد از جلد قانونی کارروائی کرکے اپنے بیٹے کے شناختی، تعلیمی اور دیگر سرکاری کاغذات میں ولدیت درست کروائے تاکہ قرآن و سنت کی مخالفت باقی نہ رہے۔ احادیث مبارکہ میں ایسے شخص کے لیے سخت وعید آئی ہے جو اپنے نسب کو بدلتا یا غیر باپ کی طرف منسوب ہوتا ہے۔
قرآنِ کریم سے دلیل:
مَا جَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِّنۡ قَلۡبَیۡنِ فِیۡ جَوۡفِہٖ ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزۡوَاجَکُمُ الّٰٓیِٴۡ تُظٰہِرُوۡنَ مِنۡہُنَّ اُمَّہٰتِکُمۡ ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدۡعِیَآءَکُمۡ اَبۡنَآءَکُمۡ ؕ ذٰلِکُمۡ قَوۡلُکُمۡ بِاَفۡوَاہِکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَقُوۡلُ الۡحَقَّ وَ ہُوَ یَہۡدِی السَّبِیۡلَ۔ اُدۡعُوۡہُمۡ لِاٰبَآئِہِمۡ ہُوَ اَقۡسَطُ عِنۡدَ اللّٰہِ ۚ
(سورۃ الاحزاب: 4-5)
ترجمہ: “اللہ نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے حقیقی بیٹے نہیں بنایا۔ یہ تمہارے منہ کی بات ہے، اللہ حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔ انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو، یہی اللہ کے نزدیک انصاف کی بات ہے۔”
احادیثِ مبارکہ سے دلائل:
"من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم، فالجنة عليه حرام."
ترجمہ: "جس نے جانتے بوجھتے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف نسب کا دعویٰ کیا، اس پر جنت حرام ہے۔"
(صحیح بخاری، کتاب المغازی، حدیث: 4071)
"من ادعى إلى غير أبيه، أو انتمى إلى غير مواليه، فعليه لعنة الله المتتابعة، إلى يوم القيامة."
ترجمہ: "جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کا بیٹا بننے کا دعویٰ کرے یا غلام اپنے آقاؤں کے علاوہ دوسروں کی طرف منسوب ہو، تو اس پر اللہ کی مسلسل لعنت ہے۔"
(سنن ابی داؤد، کتاب الأدب، حدیث: 330)
اقوالِ مفسرین:
"فلا يثبت بالتبني شيء من أحكام النسب، لا إرث، ولا حرمة نكاح، ولا غير ذلك."
(تفسیر مظہری، سورۃ الاحزاب، ج: 7، ص: 284، ط: الرشدیۃ)
یعنی: "گود لینے سے نہ وراثت ثابت ہوتی ہے، نہ حرمتِ نکاح، اور نہ ہی نسبی احکام میں کوئی تبدیلی آتی ہے۔"
خلاصۂ حکم:
لے پالک (گود لیے ہوئے بچے) کی ولدیت میں حقیقی باپ کے بجائے گود لینے والے کا نام لکھوانا شرعاً ناجائز اور کبیرہ گناہ ہے۔ قرآن و سنت دونوں میں اس عمل پر سخت وعید آئی ہے۔ سائل پر لازم ہے کہ سرکاری و قانونی ریکارڈ میں حقیقی والد کا نام درج کروا کر غلطی کی تلافی کرے، اور توبہ و استغفار کرے۔ البتہ گود لینے والے کا نام “سرپرست” کے خانے میں درج کرنا جائز ہے۔
واللہ أعلم بالصواب