سوتیلی اولاد کا میراث میں حصّہ، اور ان کے لیے وصیت کا حکم

سوتیلی اولاد کا میراث میں حصّہ، اور ان کے لیے وصیت کا حکم

سوال

ایک بیوہ خاتون ہے جس کی اپنی کوئی اولاد نہیں، البتہ اس کی سوتیلی اولاد — دو بیٹے اور دو بیٹیاں — موجود ہیں جو دراصل اس کی بہن کی حقیقی اولاد ہیں، یعنی وہ خاتون کے سگے بھانجے اور بھانجیاں ہیں۔ مزید یہ کہ اس خاتون کے بہن بھائی بھی حیات ہیں، جبکہ والدین کا انتقال ہو چکا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت میں اس خاتون کی جائیداد یا میراث میں سوتیلی اولاد کا کوئی شرعی حق ہے؟ اور اگر نہیں، تو کیا ان کے لیے وصیت کرنا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بیوہ خاتون جب تک زندہ ہیں، ان کی میراث سے متعلق کوئی فیصلہ قبل از وقت ہوگا۔ البتہ شرعی اصول کی روشنی میں واضح رہنا چاہیے کہ اگر ان کے انتقال کے وقت ان کے بہن بھائی زندہ ہوں، تو اس خاتون کی جائیداد میں سوتیلی اولاد (یعنی بھانجے اور بھانجیاں) کا کوئی شرعی حق نہیں بنتا، کیونکہ وہ شرعاً وارث نہیں۔

ایسی صورت میں متروکہ مال میں حق صرف ان کے بہن بھائیوں کو ملے گا جو شرعی ورثاء شمار ہوں گے۔ تاہم اگر یہ خاتون اپنی زندگی میں ان سوتیلی اولاد کے لیے کوئی وصیت کرنا چاہیں تو شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے ایک تہائی (1/3) مال تک وصیت کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ وصیت ان کی زندگی میں مؤثر ہو اور کسی شرعی وارث کے حق میں نہ ہو۔

واضح رہے کہ جب تک خاتون زندہ ہیں، ان کی مملوکہ جائیداد اور سامان میں کسی دوسرے شخص کا — خواہ وہ بہن بھائی ہوں یا سوتیلی اولاد — کوئی حق یا مطالبہ نہیں بنتا۔ ان کے انتقال کے بعد ہی وراثت تقسیم ہوگی، اور شرعی ورثاء اپنے اپنے حصوں کے مطابق وارث ہوں گے۔

فقہی دلائل

"والوارثون أصناف ثلاثة: أصحاب الفرائض والعصبات وذوو الأرحام، كذا في المبسوط، والمستحقون للتركة عشرة أصناف مرتبة، كذا في الاختيار شرح المختار فيبدأ بذي الفرض ثم بالعصبة النسبية ثم بالعصبة السببية وهو مولى العتاقة، ثم عصبة مولى العتاقة ثم الرد على ذوي الفروض النسبية بقدر حقوقهم، ثم ذوي الأرحام ثم مولى الموالاة ثم المقر له بالنسب على الغير بحيث لم يثبت نسبه بإقراره من ذلك الغير إذا مات المقر مصرا على إقراره، كما لو أقر بأخ أو أخت وما أشبه ذلك ثم الموصى له بجميع المال ثم بيت المال، كذا في الكافي."
(الفتاویٰ العالمگیری، کتاب الفرائض، ج:6، ص:447، ط:المكتبة الرشيدیه، كویٹہ)
"وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل، والعلم بجهة إرثه."
(الفتاویٰ الشامی، کتاب الفرائض، ج:6، ص:758، ط: ایچ ایم سعید، کراچی)
"كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير."
(درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، ج:3، ص:201، دار الجيل، بیروت)
فقط واللہ اعلم بالصواب