شوہر کا واٹس ایپ اسٹیٹس پر لکھنا کہ میں نے جس سے نکاح کیا تھا اسے طلاق دے دی

شوہر کا واٹس ایپ اسٹیٹس پر لکھنا کہ "میں نے جس سے نکاح کیا تھا اسے طلاق دے دی"

سوال:

ایک لڑکی کا نکاح ہوا، مگر ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ ایک دن شوہر اور بیوی کے درمیان معمولی جھگڑا ہوا تو شوہر نے جذبات میں آ کر اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس پر یہ الفاظ لکھے:

"میں نے جس سے نکاح کیا تھا، اسے طلاق دے دی، وہ غلط لڑکی نکلی، براہ کرم اب مجھے اس سے منسوب نہ کریں۔"

یہ اسٹیٹس صرف ایک منٹ کے لیے لگایا گیا، کسی کو عام طور پر نہیں دکھایا گیا، صرف لڑکی کو دکھایا گیا اور پھر فوراً ہٹا دیا گیا۔ شوہر نے زبان سے طلاق کے الفاظ نہیں کہے، بلکہ صرف اسٹیٹس لکھا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس سے شرعاً طلاق واقع ہو گئی یا کوئی گنجائش باقی ہے؟

جواب:

صورتِ مسئولہ میں شوہر نے اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس پر جو الفاظ تحریر کیے: “میں نے جس سے نکاح کیا تھا، اسے طلاق دے دی” — یہ صریح الفاظِ طلاق ہیں، اور چونکہ یہ الفاظ اس نیت سے لکھے گئے کہ لڑکی کو دکھائے جائیں، اس لیے یہ تحریری طور پر طلاق کے اقرار کے حکم میں ہے۔

لہٰذا ان الفاظ سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی ہے، اور اس کے ساتھ شوہر اور بیوی کا نکاح ختم ہو گیا۔ چونکہ ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی، اس لیے لڑکی پر عدت لازم نہیں ہے۔

البتہ اگر شوہر اور لڑکی دونوں دوبارہ ازدواجی تعلق بحال کرنا چاہیں تو نیا نکاح باقاعدہ مہر اور گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ کیا جا سکتا ہے، اور آئندہ کے لیے شوہر کے پاس مزید دو طلاقوں کا حق باقی رہے گا۔

فقہی حوالہ:

"(وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل وعم التفريق."

(الفتاویٰ الشامی، کتاب الطلاق، باب طلاق غیر المدخول بها، ج:3، ص:286، ط: سعید)

نتیجہ:

لہٰذا شوہر کے واٹس ایپ اسٹیٹس میں طلاق کے الفاظ لکھنے سے شرعاً ایک طلاقِ بائن واقع ہو چکی ہے، نکاح ختم ہو گیا ہے، عدت لازم نہیں، اور دوبارہ نکاح از سرِ نو کیا جا سکتا ہے۔

فقط واللہ أعلم بالصواب