سیاسی جماعتوں کے جلسوں اور دیگر تقریبات میں بطورِ فنڈ زکوٰۃ دینے کا حکم
سوال:
کیا زکوٰۃ کی رقم سیاسی جماعتوں یا دینی و سماجی جدوجہد کرنے والی تنظیموں کو دی جا سکتی ہے؟ خصوصاً اگر ان جماعتوں کی طرف سے درج ذیل مقاصد کے لیے فنڈ یا چندہ طلب کیا جائے تو کیا زکوٰۃ اس مد میں دینا درست ہے؟
- حکومت کے خلاف مہنگائی یا ظلم کے خلاف احتجاجی تحریکات میں خرچ کے لیے۔
- اجتماعاتِ عامہ، جلسے یا کانفرنس کے انتظامات کے لیے۔
- سالانہ اجتماعِ ارکان یا تنظیمی پروگراموں کے اخراجات کے لیے۔
- سیاسی جلسوں یا دیگر جماعتی تقریبات کے لیے۔
جواب:
زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک (یعنی زکوٰۃ کے مال کو کسی مستحقِ زکوٰۃ کو مالک بنا دینا) بنیادی شرط ہے۔ صورتِ مسئولہ میں کسی بھی سیاسی یا دینی جماعت کو جلسوں، اجتماعات یا تنظیمی پروگراموں کے فنڈ کے طور پر زکوٰۃ دینا جائز نہیں، کیونکہ ان مصارف میں زکوٰۃ کی رقم مستحقِ زکوٰۃ کے حوالے مالک بناکر نہیں دی جاتی۔
لہٰذا ایسی تمام صورتوں میں زکوٰۃ کی رقم کا استعمال شرعاً درست نہیں، اور اگر کسی نے جلسے، احتجاج یا پروگراموں میں زکوٰۃ کی رقم صرف کی ہو تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی بلکہ فرض بدستور باقی رہے گا۔
فقہی حوالہ جات:
"وفي اصطلاح الفقهاء ما ذكره المصنف (قوله هي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى) لقوله تعالى: وآتوا الزكاة۔ (البقرة: 43) والإيتاء هو التمليك، ومراده تمليك جزء من ماله، وهو ربع العشر أو ما يقوم مقامه... والمراد من إيتاء الزكاة إخراجها من العدم إلى الوجود كما في قوله: أقيموا الصلاة۔ (الأنعام: 72) كذا في المعراج."
(البحر الرائق، کتاب الزکاۃ، ج:2، ص:201، ط: دار الکتاب الإسلامی)
"ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه."
(الفتاویٰ الهندیة، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:188، ط: رشیدیة)
نتیجہ:
زکوٰۃ صرف ان افراد کو دی جا سکتی ہے جو شریعت کی رو سے مستحقِ زکوٰۃ ہوں۔ سیاسی جماعتوں، دینی تحریکات یا جلسوں کے انتظامات کے لیے زکوٰۃ کا استعمال جائز نہیں، کیونکہ ان میں زکوٰۃ کی بنیادی شرط یعنی تملیک مفقود ہے۔ لہٰذا ایسی مدات میں دی گئی زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی بلکہ فرض باقی رہتا ہے۔
فقط واللہ أعلم بالصواب