ChatGPT said: نامحرم کے ساتھ رہنے والی عورت سے سماجی قطع تعلقی کا حکم

نامحرم کے ساتھ رہنے والی عورت سے سماجی قطع تعلقی کا حکم

سوال:

ہمارے پڑوس میں ایک خاتون رہتی ہیں جنہیں ڈیڑھ سال قبل شوہر نے طلاق دے دی تھی۔ بعد میں انہوں نے ایک کنوارے لڑکے سے خفیہ شادی کی، لیکن اس کے والدین کو علم ہونے پر لڑکے کو اپنے پاس بلالیا، اور اس عورت نے اب اپنے سابقہ شوہر کے گھر واپس رہنا شروع کردیا ہے، حالانکہ نئے شوہر نے اسے طلاق نہیں دی۔ اب وہ اپنے پہلے شوہر (جو اس کے لیے غیر مرد ہے) کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہ رہی ہیں۔ کچھ مفتیان نے کہا کہ ان سے قطع تعلق کرلیا جائے کیونکہ وہ حرام زندگی گزار رہی ہیں، چنانچہ محلے والوں نے بائیکاٹ کردیا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا ایسی عورت سے سماجی قطع تعلقی درست ہے؟ اور کیا ضرورت کی چیزیں دینا بھی منع ہے؟


جواب:

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی مذکورہ عورت کو اس کے پہلے شوہر نے تین طلاقیں دے دی تھیں اور بعد میں اس نے کسی دوسرے مرد سے نکاح کیا تھا، تو وہ اسی مرد کے نکاح میں باقی ہے جب تک کہ وہ مرد طلاق یا خلع نہ دے۔ اس صورت میں اپنے پہلے شوہر (جو اب اس کے لیے نامحرم ہے) کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنا سخت ناجائز اور کبیرہ گناہ ہے۔ ایسا تعلق برقرار رکھنا شرعاً حرام ہے، اور دونوں پر فوراً علیحدگی اختیار کرنا اور سچے دل سے توبہ و استغفار کرنا لازم ہے۔

اگر سمجھانے کے باوجود وہ دونوں علیحدگی اختیار نہ کریں تو ان کی اصلاح کی نیت سے بقدرِ ضرورت سماجی بائیکاٹ کرنا جائز ہے۔ البتہ اگر وہ شدید ضرورت یا مجبوری میں کسی چیز کی طلب کریں، تو ان کی انسانی ضرورت پوری کرنا درست اور باعثِ ثواب ہوگا، کیونکہ اسلام نے پڑوسیوں کے حقوق کو ہر حال میں اہم قرار دیا ہے۔


دلائلِ شرعیہ:

"لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة."
(الفتاوی الهندیة، کتاب النکاح، الباب الثالث، ج: 1، ص: 280، ط: دارالفکر)
"فإن هجرة أهل الأهواء والبدع واجبة على مر الأوقات ما لم يظهر منه التوبة والرجوع إلى الحق."
(مرقاۃ المفاتیح، کتاب الآداب، ج: 8، ص: 1347، ط: دارالفکر)
"ولا يسلم على الشيخ المازح الكذاب واللاغي؛ ولا على من يسب الناس أو ينظر وجوه الأجنبيات، ولا على الفاسق المعلن... ما لم تعرف توبتهم."
(رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، ج: 6، ص: 415، ط: سعید)
”مسلمان خواہ کتنا ہی فاسق و فاجر کیوں نہ ہو، مؤمن تو ہے، اگر قطع تعلقی سے امید ہو کہ وہ برائی چھوڑ دے گا تو ترک تعلقات بہتر ہے، لیکن اگر کوئی تعلق رکھے تو اس پر ایسا گناہ نہیں جیسے کافر سے تعلق پر ہوتا ہے۔“
(کفایت المفتی، کتاب الحظر والإباحۃ، ج: 9، ص: 122، ط: دارالاشاعت)

خلاصہ:

اگر خاتون واقعی اپنے نئے نکاح سے علیحدہ نہیں ہوئیں تو اپنے سابق شوہر کے ساتھ رہنا ناجائز ہے۔ اصلاح کی نیت سے ان سے سماجی بائیکاٹ درست ہے، مگر ضرورت و مجبوری کے وقت مدد کرنا یا انسانی ہمدردی دکھانا جائز ہے۔ اسلام میں بائیکاٹ کا مقصد نفرت نہیں بلکہ اصلاح ہے۔


واللہ اعلم بالصواب