ملازمت کی جگہ پر اجازت سے تعمیر کیے گئے مکان کے خرچے کی واپسی کا شرعی حکم
سوال:
میں تقریباً پینتالیس سال سے ایک جگہ ملازم رہا۔ دورانِ ملازمت میں نے اسی جگہ کمیٹی کی اجازت سے اپنی رہائش کے لیے ایک مکان تعمیر کیا، جس پر اپنی ذاتی رقم تقریباً پانچ لاکھ پچاس ہزار روپے خرچ کیے۔
اب ریٹائرمنٹ کے بعد تین سال گزرنے پر کمیٹی کے نئے ذمہ داران نے مجھے ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا کہ مکان خالی کرو، کہ پولیس آرہی ہے۔ تو میں نے ڈر کے مارے یہ مکان خالی کردیا۔
مزید یہ کہ میرے بیٹے کے کمیٹی نے دروازے، کھڑکیاں اور بجلی کی فٹنگ وغیرہ کے کام کے 75 ہزار روپے دینے تھے، مگر انتظامیہ نے صرف 60 ہزار ادا کیے۔
سوال یہ ہے کہ میں مکان کی تعمیر پر کیے گئے خرچے کو واپس لے سکتا ہوں یا نہیں؟
جواب:
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل اور کمیٹی کے درمیان مکان کی تعمیر پر خرچ کردہ رقم کی واپسی کا کوئی واضح معاہدہ نہیں ہوا تھا، تو شریعت کی رو سے یہ تعمیر عاریت شمار ہوگی۔ اس صورت میں سائل تعمیر پر خرچ کی گئی رقم کی واپسی کے مطالبے کا حقدار نہیں ہے، البتہ وہ مکان کے ملبے (Material) کی قیمت لے سکتا ہے۔
البتہ سائل کے بیٹے کے ساتھ اگر کمیٹی نے مذکورہ تعمیرات (دروازے، کھڑکیاں، بجلی فٹنگ وغیرہ) کی رقم 75 ہزار روپے دینے کا معاہدہ کیا تھا تو کمیٹی شرعاً اس مکمل رقم کی ادائیگی کی پابند ہوگی۔
فقہی دلائل:
“(ولو أعار أرضا للبناء والغرس صح) للعلم بالمنفعة (وله أن يرجع متى شاء) لما تقرر أنها غير لازمة (ويكلفه قلعهما إلا إذا كان فيه مضرة بالأرض فيتركان بالقيمة مقلوعين) لئلا تتلف أرضه (وإن وقت) العارية (فرجع قبله) كلفه قلعهما (وضمن) المعير للمستعير (ما نقص) البناء والغرس (بالقلع) بأن يقوم قائما إلى المدة المضروبة، وتعتبر القيمة يوم الاسترداد بحر.”
(فتاویٰ شامی: کتاب العاریہ، ج:5، ص:681، ط: سعید)
“لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي.”
(مجلۃ الأحکام العدلیۃ: المقالة الثانیة فی بیان القواعد الکلیة الفقهیة، ص:27، ط: نور محمد)
نتیجہ و حکم:
اگر معاہدہ نہ ہوا ہو تو مکان کی تعمیر پر خرچ کی گئی رقم واپس لینا شرعاً درست نہیں، البتہ ملبے کی قیمت لی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر کسی خاص تعمیراتی کام پر ادائیگی کا معاہدہ موجود ہو تو کمیٹی پر وہ مکمل رقم ادا کرنا لازم ہے۔