نمازِ جنازہ کا اصل وقت، اگر فرض نماز کا وقت ہو تو جنازہ سنتوں اور وتر کے بعد پڑھنا چاہیے
سوال:
ایک شخص نے کہا کہ جنازے میں اصل یہ ہے کہ اسے سنت مؤکدہ کے بعد اور وتر سے پہلے پڑھنا چاہیے، تو کیا اس کی یہ بات درست ہے؟ شرعی راہ نمائی فرمائیں!
جواب:
نمازِ جنازہ کا اصل اصول یہ ہے کہ جب بھی جنازہ تیار ہو جائے تو بلا تاخیر نمازِ جنازہ ادا کر دی جائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’اے علی! تین کام ایسے ہیں جن میں دیر نہ کرو: نماز جب اس کا وقت آجائے، جنازہ جب حاضر ہو جائے، اور بے خاوند عورت جب اس کے لیے مناسب مرد مل جائے (تو اس کا نکاح کر دو)۔‘‘
(مشکاة المصابیح 1/192، ترمذی)
تاہم شریعت نے تین مکروہ اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے، یعنی: عین طلوعِ آفتاب، عین غروبِ آفتاب اور استواءِ شمس (دوپہر کے وقت جب سورج عین سر پر ہو)۔ ان اوقات میں فرض، نفل یا جنازہ کوئی بھی نماز پڑھنا مکروہ ہے، لیکن اگر جنازہ انہی اوقات میں تیار ہو کر آئے تو تاخیر کیے بغیر اسی وقت پڑھا جا سکتا ہے، اس صورت میں کوئی کراہت نہیں ہوگی۔
البتہ اگر فرض نماز کا وقت ہو تو پہلے فرض نماز اور اس کے بعد سنت مؤکدہ ادا کی جائے، اور اگر عشاء کا وقت ہو تو فرض، سنتیں اور وتر پہلے ادا کیے جائیں، پھر نمازِ جنازہ پڑھی جائے۔ اس ترتیب کی حکمت یہ ہے کہ: اگر کوئی مسبوق (یعنی تاخیر سے آنے والا نمازی) ہو تو اس کی نماز میں خلل نہ ہو اور سنتیں یا وتر رہ نہ جائیں، بلکہ اہتمام سے ادا ہو جائیں۔ البتہ غیر مؤکدہ سنتوں یا نوافل میں مشغول ہو کر جنازے یا تدفین میں تاخیر کرنا مکروہ ہے۔
دلائلِ فقہیہ:
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
"عن الحسن و ابن سیرین قالوا: إذا حضرت الجنازۃ و الصلاۃ المکتوبۃ یبدأ بصلاۃ المکتوبۃ."
(المصنف لابن أبي شیبۃ 2/485، رقم: 11329، بیروت)
اسی طرح فقہِ حنفی کی معتبر کتب مثلاً الدر المختار اور رد المحتار میں تفصیلاً بیان ہے کہ: مکروہ اوقات میں نمازِ جنازہ نہیں پڑھنی چاہیے، البتہ اگر جنازہ انہی اوقات میں حاضر ہو تو پھر تاخیر کیے بغیر پڑھ لینا بہتر ہے۔ اور جب فرض نماز اور جنازہ جمع ہو جائیں تو پہلے فرض نماز ادا کی جائے کیونکہ فرض عینی ہے اور جنازہ فرض کفایہ۔
اسی طرح فتویٰ یہ ہے کہ جمعہ یا دیگر فرض نمازوں کی سنتیں نمازِ جنازہ پر مقدم ہیں تاکہ نماز کا نظام اور سنتوں کی حفاظت برقرار رہے۔