وہ نشانیاں جن کا ذکر نبی کریم ﷺ نے کیا… اور جن کے بعد قیامت کا آغاز قریب تر ہو جائے گا۔
(چھوٹا وقفہ)
قیامت کا دن… وہ دن ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:
“بے شک قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔”
(سورۃ الحج: 7)
یعنی ایک دن ایسا ضرور آئے گا… جب ہر انسان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔
(گہرا انداز)
نبی کریم ﷺ نے ہمیں قیامت کی بڑی نشانیوں کے بارے میں پہلے ہی خبردار فرما دیا تھا۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔”
(صحیح مسلم)
(چھوٹا وقفہ)
اب سوال یہ ہے…
وہ دس بڑی نشانیاں کون سی ہیں؟
آئیے ایک ایک کر کے جانتے ہیں۔
(توجہ دلانے والا انداز)
پہلی نشانی…
امام مہدی کا ظہور۔
وہ ایک نیک اور عادل حکمران ہوں گے… جو زمین کو انصاف سے بھر دیں گے، جیسے پہلے وہ ظلم سے بھر چکی ہوگی۔
(وقفہ)
دوسری بڑی نشانی…
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول۔
وہ دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے… اور جھوٹے دجال کو ختم کریں گے۔
(گہرا انداز)
تیسری نشانی…
دجال کا ظہور۔
دجال ایک بہت بڑا فتنہ ہوگا…
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک دجال سے بڑا کوئی فتنہ نہیں۔”
(صحیح مسلم)
(چھوٹا وقفہ)
چوتھی نشانی…
یاجوج ماجوج کا نکلنا۔
یہ ایک طاقتور اور تباہی پھیلانے والی قوم ہوگی… جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی آیا ہے۔
(سورۃ الکہف)
(وقفہ)
پانچویں نشانی…
زمین میں تین بڑے دھنساؤ۔
ایک مشرق میں…
ایک مغرب میں…
اور ایک جزیرہ العرب میں۔
(سنجیدہ انداز)
چھٹی نشانی…
دخان… یعنی ایک عظیم دھواں۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:
“پس انتظار کرو اس دن کا جب آسمان ایک ظاہر دھواں لے کر آئے گا۔”
(سورۃ الدخان: 10)
(چھوٹا وقفہ)
ساتویں نشانی…
دابۃ الارض کا ظاہر ہونا۔
یہ ایک عجیب مخلوق ہوگی… جو لوگوں سے کلام کرے گی۔
(گہرا انداز)
آٹھویں نشانی…
سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔
اور جب ایسا ہوگا…
تو توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو اس کے بعد کسی شخص کا ایمان لانا فائدہ نہیں دے گا۔”
(صحیح بخاری)
(وقفہ)
نویں نشانی…
یمن کی طرف سے ایک آگ نکلے گی
جو لوگوں کو میدانِ حشر کی طرف ہانکے گی۔
(آہستہ انداز)
اور دسویں نشانی…
وہ واقعات ہوں گے جو قیامت کے بالکل قریب ظاہر ہوں گے… اور پھر اس دنیا کا نظام ختم ہو جائے گا۔
(گہرا وقفہ)
سوچئے…
اگر یہ نشانیاں ایک ایک کر کے ظاہر ہونا شروع ہو جائیں… تو انسان کے پاس توبہ کا کتنا وقت رہ جائے گا؟
اسی لیے اللہ تعالیٰ ہمیں بار بار یاد دلاتے ہیں کہ قیامت یقینی ہے۔
(درد بھرا انداز)
اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان دنیا میں کتنا مال جمع کر لے…
بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے سرخرو ہو۔
(آخری پیغام)
آئیے آج ہی ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں…
نماز کی پابندی کریں…
گناہوں سے توبہ کریں…
اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں قیامت کے دن کی رسوائی سے بچائے۔
(گہرا اور آہستہ اختتام)
کیونکہ وہ دن…
یقیناً آنے والا ہے۔