بہن اور بیٹی کو شادی کے بعد دیے گئے ہدایا کو میراث شمار کیا جائے گا؟

بہن اور بیٹی کو شادی کے بعد دیے گئے ہدایا کو میراث شمار کیا جائے گا؟

سوال:

میرے والد نے اپنی زندگی میں مجھے ایک بکری دی تھی۔ شادی کے بعد کچھ عرصہ میں اپنے شوہر سمیت اپنے بھائیوں کے گھر میں رہی۔ اسی دوران میرا بیٹا بیمار ہوا تو والد محترم نے اس کی صحت یابی پر ایک گائے نذر مانی، اور جب میرا بیٹا ٹھیک ہوا تو والد نے وہ گائے صدقہ کر دی۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا والد کی جانب سے دی گئی بکری، بھائیوں کے گھر رہائش، اور بیٹے پر نذر کی گئی گائے — کیا یہ چیزیں میری میراث میں شمار ہوں گی؟

والد کے انتقال کے وقت ہم دو بہنیں، تین بھائی اور ایک والدہ زندہ تھیں، پھر والدہ کا بھی انتقال ہو گیا۔ تو کیا مجھے میراث میں حصہ ملے گا یا والد کی زندگی میں جو کچھ ملا وہی میرا حصہ سمجھا جائے گا؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ میرے بھائی کہتے ہیں کہ ہم نے بہن کا حصہ دے دیا ہے، اور ایک دوسرے کے حق میں یہ گواہی دیتے ہیں کہ بہن کو حصہ دیا جا چکا ہے، تو کیا شرعاً ان کی یہ گواہی درست ہے؟

جواب:

صورتِ مسئولہ میں والد نے جو بکری اپنی زندگی میں سائلہ کو دی تھی، یا جو گائے بیٹے کی صحت یابی پر صدقہ کی تھی، یہ تمام چیزیں والد کی طرف سے تبرع (احسان) شمار ہوں گی، نہ کہ ترکہ یا میراث میں سے۔ اسی طرح شادی کے بعد بھائیوں کے ساتھ قیام بھی محض تعاون اور مہربانی تھی، لہٰذا ان سب کو میراث میں شمار کر کے بہن کو اس کے شرعی حق سے محروم کرنا درست نہیں۔

لہٰذا شرعاً سائلہ اپنے والد مرحوم کے ترکہ میں دیگر ورثاء (یعنی بھائی بہنوں اور والدہ) کے ساتھ اپنے حصے کی حق دار ہے، اور والد یا بھائیوں کی زندگی میں کی گئی عطیات کو میراث کا متبادل قرار دینا جائز نہیں۔

اگر بھائی لاعلمی کی بنیاد پر یہ گواہی دیتے رہے کہ بہن کا حصہ دیا جا چکا ہے تو یہ گواہی حقیقت میں درست نہیں۔ اب جب ان کے سامنے شرعی مسئلہ واضح ہو گیا ہے، تو اس کے بعد بھی اگر وہ اسی گواہی پر قائم رہیں تو یہ حق تلفی اور جھوٹی گواہی کے زمرے میں آئے گا، جو سخت گناہ ہے۔

دلائلِ شرعیہ:

"وعن خريم بن فاتك قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح فلما انصرف قام قائما فقال: «عدلت شهادة الزور بالإشراك بالله» ثلاث مرات. ثم قرأ: (فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور حنفاء لله غير مشركين به). رواه أبو داود وابن ماجه"

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الإمارۃ والقضاء، باب الاقضیة والشهادۃ، ج:2، ص:1115، ط: المكتب الإسلامي بيروت)

ترجمہ: "حضرت خُریم بن فاتک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے نمازِ فجر کے بعد فرمایا: ‘جھوٹی گواہی کو شرک باللہ کے برابر قرار دیا گیا ہے۔’ یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: (فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّوْرِ) یعنی بتوں کی پرستش اور جھوٹ بولنے سے بچو۔"

"المتبرع ‌لا ‌يرجع بما تبرع به على غيره."

(تنقیح الفتاویٰ الحامدیہ، کتاب المداينات، ج:2، ص:226، ط:دار المعرفة)

نتیجہ:

خلاصہ یہ ہے کہ:

  • والد کی طرف سے زندگی میں دیے گئے تحائف (بکری یا صدقہ) تبرع ہیں، میراث نہیں۔
  • سائلہ اپنے والد کے ترکہ میں شرعاً برابر کی وارث ہے۔
  • بھائیوں کی گواہی اگر خلافِ حقیقت ہو تو وہ جھوٹی گواہی اور ناجائز عمل ہے۔

فقط واللہ أعلم بالصواب