علمِ مقامات (مقامِ حجاز، سیکا، رست وغیرہ) سیکھنے کا شرعی حکم

علمِ مقامات (مقامِ حجاز، سیکا، رست وغیرہ) سیکھنے کا شرعی حکم

سوال:

قرآنِ کریم کے جو مقامات مثلاً مقامِ حجاز، مقامِ سیکا، مقامِ رست وغیرہ معروف ہیں، ان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا ان کا سیکھنا جائز اور باعثِ ثواب ہے؟

جواب:

قرآنِ کریم کی تلاوت کو تجوید کے قواعد کے مطابق ادا کرنا اور لحنِ جلی سے اجتناب کرنا شرعاً فرض ہے، جبکہ خوبصورت آواز میں قرآن پڑھنا مستحب اور پسندیدہ عمل ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ قرآنِ کریم کے الفاظ دلوں پر اثر انداز ہوں، خشیتِ الٰہی پیدا ہو اور انسان کو عمل کی طرف مائل کریں۔

فنِ مقامات دراصل ان لہجوں اور دھنوں کا مجموعہ ہے جن کے ذریعے آواز میں حسن پیدا کیا جاتا ہے۔ اگر اس فن کو مقصدِ اصلی نہ بنایا جائے، نہ اسے لازم سمجھا جائے، نہ تلاوت میں مصنوعی بناوٹ ہو، اور نہ ہی موسیقی کے اوزان پر اسے سکھایا جائے، تو ایسی صورت میں ان مقامات کو سیکھنا جائز (مباح) ہے۔

البتہ اگر کوئی قاری ان مقامات کو تلاوتِ قرآن کا لازمی جزو سمجھے، محض لوگوں کی واہ واہ یا شہرت کے لیے تلاوت کرے، یا ان لہجوں کو اس طرح اپنائے کہ قرآن کی روح متاثر ہو، تو یہ طریقہ شرعاً ناجائز اور قابلِ مذمت ہے۔


قرآن و سنت سے رہنمائی:

ارشادِ باری تعالیٰ:
﴿‌اللَّهُ ‌نَزَّلَ ‌أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا مَثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ﴾ (الزمر: 23) یعنی "اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے جو باہم مشابہ اور بار بار دہرایا جانے والا ہے، اس سے ان لوگوں کے جسم کانپ اٹھتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کے جسم اور دل نرم ہو جاتے ہیں اللہ کے ذکر کی طرف۔"

حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ فرماتی ہیں کہ صحابہ کرام جب قرآن سنتے تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے اور بدن پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے۔ (شعب الإیمان، ج: 2، ص: 356)


احادیثِ مبارکہ:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ" یعنی "قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو۔" (ابو داود، ابن ماجہ)

دوسری روایت میں ہے: "اقرؤوا القرآن بلحون العرب وأصواتها، وإياكم ولحون أهل العشق وأهل الكتابين" یعنی "قرآن کو عربوں کے لہجے اور آوازوں میں پڑھو، گانے بجانے یا اہلِ کتاب کے طرز پر پڑھنے سے بچو۔" (مشکاة المصابیح)

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ قرآنِ کریم کو فطری انداز میں اور عربی لہجے کے مطابق خوش الحانی سے پڑھنا مستحب ہے، مگر نغماتی آہنگ یا موسیقی کے انداز میں پڑھنا ممنوع ہے۔


فقہاء و مفسرین کے اقوال:

حضرت امام نوویؒ فرماتے ہیں: "علماء کا اجماع ہے کہ قرآن کو خوش آواز سے پڑھنا مستحب ہے، بشرطیکہ وہ تمطیط (لمبا کھینچنے) کی حد سے تجاوز نہ کرے۔" (التبیان فی آدابِ حملۃ القرآن، ص: 110)

علامہ ابن حجرؒ فرماتے ہیں: "خوش آواز تلاوت سے دل نرم ہوتے ہیں اور خشیتِ الٰہی پیدا ہوتی ہے، مگر اگر لحن سے حروف کے مخارج میں تبدیلی آجائے تو یہ حرام ہے۔" (فتح الباری، ج: 9، ص: 72)

فتاویٰ شامی میں ہے: "اگر کوئی قرآن خوش الحانی سے پڑھتا ہے اور اس میں حروف کی ادائیگی درست رہتی ہے تو یہ جائز اور مستحسن ہے۔" (فتاویٰ شامی، ج: 6، ص: 423)


خلاصۂ حکم:

  • قرآن کو تجوید کے ساتھ پڑھنا فرض ہے۔
  • خوبصورت آواز اور حسنِ قراءت مستحب ہے۔
  • مقامات سیکھنا مباح ہے بشرطیکہ اسے مقصدِ اصلی نہ بنایا جائے۔
  • قرآن کو موسیقی کے اوزان یا گانے کی دھن پر پڑھنا حرام ہے۔
  • قرآن سے اصل مقصود تدبر، خشیت اور عمل ہے، نہ کہ لہجے کی نمائش۔

فقط واللہ أعلم بالصواب