مرض الموت میں طلاق دینے کا حکم اور عدت کا مسئلہ

مرض الموت میں طلاق دینے کا حکم اور عدت کا مسئلہ

سوال:

میرے بھائی نے انتقال سے پانچ دن قبل اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، اور اس طلاق کی اطلاع گھر کے افراد کو بھی دی۔ بیوی اور اس کے اہل خانہ نے بھی اس کی تصدیق کی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا میری بھابھی مطلقہ شمار ہوں گی یا بیوہ؟ اور عدت بیوہ کی گزاریں گی یا مطلقہ کی؟ واضح رہے کہ وہ حاملہ نہیں ہیں۔ طلاق کے الفاظ یہ تھے: “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں”۔

میرے بھائی ڈائلیسز کے مریض تھے، آٹھ سے نو ماہ سے اسی بیماری میں مبتلا تھے، اور مزید صحت یابی کی امید نہ تھی۔

جواب:

شرعاً اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو مرض الموت میں طلاق دے اور اسی بیماری کے دوران اس کا انتقال ہو جائے تو ایسی صورت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود عدت اور وراثت کے کچھ مخصوص احکام لاگو ہوتے ہیں۔

چونکہ سائل کے بھائی نے اپنی بیوی کو وفات سے پانچ دن پہلے تین طلاقیں دی تھیں، اس لیے سائل کی بھابھی پر عدتِ وفات واجب ہوگی۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے:

  • اگر شوہر کا انتقال چاند کی پہلی تاریخ کو ہوا ہو تو عدت چار ماہ اور دس دن ہوگی۔
  • اگر وفات پہلی تاریخ کے بعد ہوئی ہو تو عدت ایک سو تیس (130) دن کے برابر ہوگی۔
  • اگر اس مدت میں تین حیض مکمل نہ ہوں تو عدت تیسرا حیض مکمل ہونے تک باقی رہے گی۔

چونکہ یہ طلاق مرض الموت میں ہوئی ہے، لہٰذا سائل کی بھابھی کو مرحوم شوہر کے ترکہ میں حصہ ملے گا۔ ورثاء پر لازم ہے کہ میراث میں اس کا حصہ دیا جائے، اسے محروم کرنا شرعاً ناجائز اور گناہ ہے۔

فقہی دلائل:

إذا طلق امرأته ثم مات، فإن كان الطلاق رجعيًا انتقلت عدتها إلى عدة الوفاة سواء طلقها في حالة المرض أو الصحة وانهدمت عدة الطلاق، وعليها أن تستأنف عدة الوفاة في قولهم جميعاً؛ لأنها زوجته بعد الطلاق إذ الطلاق الرجعي لايوجب زوال الزوجية، وموت الزوج يوجب على زوجته عدة الوفاة؛ لقوله تعالى: {والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجًا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرًا} [البقرة: 234] كما لو مات قبل الطلاق، وإن كان بائنًا أو ثلاثًا فإن لم ترث بأن طلقها في حالة الصحة لاتنتقل عدتها؛ لأن الله تعالى أوجب عدة الوفاة على الزوجات بقوله عز وجل: {والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجًا يتربصن} [البقرة: 234] وقد زالت الزوجية بالإبانة، والثلاث فتعذر إيجاب عدة الوفاة فبقيت عدة الطلاق على حالها. وإن ورثت بأن طلقها في حالة المرض ثم مات قبل أن تنقضي العدة فورثت اعتدت بأربعة أشهر وعشر، فيها ثلاث حيض، حتى أنها لو لم تر في مدة الأربعة أشهر، والعشر ثلاث حيض تستكمل بعد ذلك، وهذا قول أبي حنيفة، ومحمد، وكذلك كل معتدة، ورثت.

(بدائع الصنائع، کتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:3، ص:200، ط: دارالکتب العلمیة)
ولو طلقها طلاقا بائنا أو ثلاثا ثم مات وهي في العدة فكذلك عندنا ترث، ولو انقضت عدتها ثم مات لم ترث.

(الفتاوی الہندیہ، کتاب الطلاق، الباب الخامس فی طلاق المریض، ج:1، ص:462، ط: دارالفکر)

خلاصۂ مسئلہ:

  • مرض الموت میں دی گئی طلاق کے بعد اگر شوہر کا انتقال اسی مرض میں ہو جائے تو بیوی پر عدت وفات لازم ہے، عدت طلاق نہیں۔
  • ایسی بیوی مرحوم شوہر کی وراثت میں حصہ دار ہوتی ہے۔
  • ورثاء پر لازم ہے کہ اسے میراث سے محروم نہ کریں۔

فقط واللہ اعلم بالصواب