🔹 تین طلاقوں کا حکم 🔹
📖 سوال:
زید نے اپنے والدین سے ناراضگی کے موقع پر، غصے اور خفگی کے عالم میں اپنی زوجہ کے بارے میں یہ الفاظ تین مرتبہ ادا کیے:
“طلاق، طلاق، طلاق”۔
اس نے ان الفاظ کو کسی شخص یا سمت کی طرف منسوب نہیں کیا، اور اسی حالت میں کہا:
“میں اب کہیں چلا جاؤں گا یا بھیک مانگ کر کھاؤں گا”۔
سائل جاننا چاہتا ہے کہ ایسی صورت میں شرعاً طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
💠 الجواب بعون الملک الوہاب:
فقہائے کرام کی تصریحات اور علامہ شامیؒ کی توضیحات کی روشنی میں اگر شوہر نے شعور و ادراک کی حالت میں یہ تینوں الفاظ ادا کیے، تو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں۔
چنانچہ عورت پر طلاقِ مغلظہ (مطلقہ ثلاثہ) ثابت ہوگئی، اور وہ شوہر کے لیے اب بغیر نکاحِ جدید کے حلال نہیں۔
📚 حوالہ: فتاویٰ شامی، جلد 3، صفحہ 26